تربت: یونیورسٹی کیلئے بڑی منظوری فیز-ٹو منصوبہ پاس، 1.93 ارب روپے، ڈیجیٹل لائبریری، سولرائزیشن اور لیب سازوسامان کے لیے خصوصی فنڈز جاری

تربت(گدروشیا پوائنٹ)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی خصوصی دلچسپی اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی مثالی قیادت کے باعث یونیورسٹی آف تربت نے اعلیٰ تعلیم کے سفر میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرلیا ہے۔ جمعہ کے روز سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں تربت یونیورسٹی فیز–ٹو کے نظرثانی شدہ پی سی–ون کی 1,930.33 ملین روپے لاگت کے ساتھ باضابطہ منظوری دے دی گئی۔اجلاس کی صدارت پروفیسر احسن اقبال نے کی، جہاں انہوں نے جنوبی بلوچستان میں سماجی و معاشی ترقی، نوجوانوں کی بااختیاری، مقامی مواقع میں اضافے اور علاقائی عدم مساوات کے خاتمے کے لیے تربت یونیورسٹی کی اہمیت پر زور دیا۔
منصوبے پر بریفنگ ممبر سائنس و ٹیکنالوجی/آئی سی ٹی ڈاکٹر نجیب اللہ، سینیئر چیف ڈاکٹر گل محمد لغاری، ڈائریکٹر ایم اینڈ ای سید نوید شاہ اور ایچ ای سی کے پی اینڈ ڈی ڈائریکٹر آصف حسین نے پیش کی، جس میں انفراسٹرکچر کی بہتری، تحقیقی و تدریسی ماحول کے فروغ اور انتظامی صلاحیتوں پر روشنی ڈالی گئی۔ وفاقی وزیر نے تربت یونیورسٹی کے لیے اضافی فنڈز کا اعلان بھی کیا، جن میں طلبہ کی ہم نصابی سرگرمیوں کے لیے 1 کروڑ روپے، جدید ڈیجیٹل لائبریری کے قیام کے لیے 2 کروڑ 30 لاکھ روپے، نئے اکیڈمک بلاکس کی سولرائزیشن کے لیے 8 کروڑ روپے اور لیبارٹری آلات کی خریداری کے لیے 4 کروڑ 20 لاکھ روپے شامل ہیں۔ یہ فنڈز تربت یونیورسٹی میں معیاری تعلیمی سہولیات، توانائی کے پائیدار استعمال اور طلبہ کے لیے بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال، پلاننگ کمیشن کے اعلیٰ حکام اور ایچ ای سی کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ منظوری حکومت کے اس عزم کی عکاس ہے کہ وہ بلوچستان سمیت پسماندہ علاقوں میں اعلیٰ تعلیم کو مضبوط بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر کو تربت یونیورسٹی کے دورے اور فیز–ٹو کی نئی عمارتوں کے افتتاح کی دعوت بھی دی۔ فیکلٹی ممبران اور پروجیکٹ ٹیم نے اس کامیابی پر ڈاکٹر گل حسن، پروجیکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر کمال بلوچ اور پوری ٹیم کی انتھک محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مثالی قیادت اور مشترکہ کوششوں کے باعث فیز–ٹو منصوبے کی منظوری ممکن ہوئی۔